بنگلورو13؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کی 15ندیوں میں پانی استعمال کے قابل نہیں ہے بلکہ زہر آلود ہوچکا ہے، اگر اس پانی کو بغیر احتیاط کے استعمال کیاجاتا ہے تو اس سے انسانی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ان ندیوں میں کاویری ، کبنی ، بھدرا ، کرشنا، لکشمن تیرتھا، ملاپربھا ، منجیرا، کالی ، شمشا اور تنگا بھدرا شامل ہیں۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے مختلف نمونوں کی جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیاہے۔ بورڈ نے ملک کی 302ندیوں کے پانی کے نمونوں کی جانچ کے بعد یہ رپورٹ دی ہے کہ ان تمام ندیوں کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ کرناٹک کی تقریباً تمام ندیاں زہر آلود قرار دی گئی ہیں اور کہاگیا ہے کہ ان ندیوں میں ایسے کیمیکل آلودہ ہوچکے ہیں جن کا انسانی صحت پر راست مضر اثر پڑ سکتا ہے۔ جب تک ان ندیوں کے پانی کو صاف کرنے کی یونٹوں میں نہیں لے جایا جاتااس وقت تک ان کا پانی قابل استعمال نہیں ہے۔ مرکزی وزارت ماحولیات نے پلیوشن کنٹرول بورڈ کو ندیوں کے پانی کی جانچ کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ، جس کے مطابق بورڈ نے حکومت کواپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات انیل مادھو نے ریاست کی 15 ندیوں میں زہر آلود پانی کی تفصیلات دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ کاویری طاس، تنگا بھدرا، ملا پربھا اور کرشنا طاس میں آنے والی بیشتر ندیاں کیوں زہر آلود ہوئی ہیں اوران کی صفائی کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں یہ تفصیل مرکز کو روانہ کی جائے ۔کہاجارہاہے کہ بیشتر ندیوں میں صنعتی کیمیکلس کے علاوہ ہندو رسومات کے تحت جلائی گئی نعشوں کی راکھ بھی ان ندیوں میں بہادی جاتی ہے جس کے سبب یہاں کا پانی زہر آلود ہوچکا ہے۔ مختلف مقامات سے گندگی بھی ان ندیوں میں پھینک دی جاتی ہے، مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ارکاوتی ، بھدرا ، بھیما ، کاویری ،کبنی ، ملاپربھا، کاگینا ، کالی ، کرشنا، لکشمن تیرتھا، منجیرا، شمشا اور تنگا بھدرا ندیوں میں پانی کی صفائی کی یونٹیں جلد از جلد قائم کی جائیں۔ کاویری کے پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے ریاستی حکومت نے صفائی پلانٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ کاویری طاس میں مردہ جانوروں اور انسانی نعشوں کی راکھ زیادہ بہائے جانے کے سبب یہاں کے پانی کو زیادہ آلودہ قرار دیا گیاہے۔ ریاستی حکومت نے کاویری میں پانی کی صفائی کا پلانٹ قائم کرنے کیلئے بجٹ میں رقم مختص کی ہے، لیکن افسران کی لاپرواہی کے سبب اب تک اس پراجکٹ کو عملی جامہ پہنایا نہیں جاسکا۔ ریاست کے بعض علاقوں میں انڈو سلفان پائے جانے کی شکایات بھی ہیں۔ انڈو سلفان آلود پانی استعمال کرنے کی وجہ سے بعض علاقوں میں کمسن بچے معذور ہوچکے ہیں ، مرکزی وزارت ماحولیات نے ریاستی حکومت کو یہ ہدایت دی ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے بلاتاخیر قدم اٹھائے جائیں۔